3 hours ago
میر رضا کی موت خودکشی نہیں قتل تھا، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں مزید کیا لکھا گیا ہے؟
Webdesk
|
20 Oct 2026
کراچی: میر رضا علی کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش کو سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے شواہد جمع کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے اور فرانزک مواد محفوظ رکھنے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے، ابتدائی دس روز کی تفتیش میں غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے کردار کی ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ مقدمات درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ممکنہ طور پر حقائق چھپانے کے خدشے کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ رپورٹ میں پولیس کے اس ابتدائی مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں جس میں میر رضا علی کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے میں کوتاہیاں
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے اور انہیں محفوظ رکھنے کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، جس کے باعث فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد متاثر ہونے کے خدشات سامنے آئے۔
کمیشن نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول اور شواہد کی دستاویز بندی میں بھی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ تک پہنچنے کے کم از کم نو ممکنہ راستے موجود تھے، لیکن پولیس نے صرف ایک راستے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی۔ رپورٹ میں اس بات کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے کہ تمام دستیاب شواہد کا جامع اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔
موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف پر سوالات
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں میر رضا علی کی موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس مؤقف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کی ایگزیکٹو سمری کے مطابق حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پشت سے لگنے والی گولی کا زخم قرار دی گئی۔
کمیشن نے مالی مشکلات، قرضوں اور کاروباری لین دین کی بنیاد پر موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق مالی معاملات اور قرضوں کی تفصیلات بذاتِ خود خودکشی کا حتمی ثبوت نہیں، اس لیے میر رضا علی کے مالی لین دین اور کرپٹو کرنسی کے ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مختلف پہلوؤں پر مزید جانچ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم ممکنہ کور اَپ کے خدشے کا ذکر حتمی طور پر کسی فرد کو اس کا ذمہ دار قرار دینے کے مترادف نہیں؛ اس پہلو کی تصدیق مزید تحقیقات سے ہونا ہے۔
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا علی کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سفارش کی ہے۔ مجوزہ ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبر کرائم ایجنسی کے نمائندے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات شفاف، غیر جانب دارانہ اور تمام دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہئیں تاکہ کیس کے مختلف پہلوؤں کا درست تعین کیا جاسکے۔
ابتدائی تفتیش کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش
رپورٹ میں واقعے کے ابتدائی دس روز کی تفتیش میں شامل پولیس اہلکاروں کے کردار کی ایف آئی اے کے ذریعے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن نے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے علاوہ مجرمانہ مقدمات درج کرنے کی سفارش بھی کی۔
رپورٹ میں عامر فاروقی اور فرخ لنجار کی جانب سے کی گئی انکوائری پر بھی تنقید کی گئی ہے، جبکہ کامران قریشی، شبیر لغاری اور عدیل افضال کے خلاف کارروائی اور معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیشن نے پولیس محکمے کو ماضی کی سنگین غلطیوں پر عوامی طور پر معافی مانگنے کی سفارش بھی کی ہے۔
ڈاکٹر اسامہ شیخ کے کردار پر بھی سوالات
جوڈیشل کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کے حوالے سے بھی سخت مشاہدات رپورٹ کا حصہ بنائے ہیں۔ رپورٹ میں ان کے طرزعمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ انہیں کم از کم دو سال تک کسی بھی مقام پر میڈیکو لیگل ذمہ داریاں نہ دی جائیں۔
کمیشن نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکو لیگل فرائض پر دوبارہ مامور کرنے سے پہلے کم از کم دو سال کی تعلیمی اور عملی تربیت فراہم کی جائے۔ رپورٹ میں ان کے رویے کے لیے نادانی اور بچکانہ طرزعمل جیسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے اجلاس سے متعلق وضاحت
رپورٹ میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اجلاس کا مقصد ڈاکٹر اسامہ پر دباؤ ڈالنا نہیں تھا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کو ہائی پروفائل کیس پر بریفنگ لینے کا قانونی حق حاصل تھا۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی درج ہے کہ ڈاکٹر اسامہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کو متنازع بنانے اور پولیس سرجن کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔
شفاف تحقیقات پر زور
جوڈیشل کمیشن نے مجموعی طور پر میر رضا علی کیس میں پولیس کی ابتدائی تفتیش، شواہد کے تحفظ، فرانزک مواد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف سمیت مختلف پہلوؤں پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کی سفارشات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیس کی تحقیقات غیر جانب دارانہ انداز میں کی جائیں، ابتدائی تفتیش میں ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کیا جائے اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
Comments
0 comment