پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا سانحہ، عمارت خستہ حال ہونے کے باوجود رجسٹریشن کا انکشاف

پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا سانحہ، عمارت خستہ حال ہونے کے باوجود رجسٹریشن کا انکشاف

خیبرپختونخوا حکام کی جانب سے جاں بحق افراد اور زخمیوں کیلیے امداد کا اعلان
پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا سانحہ، عمارت خستہ حال ہونے کے باوجود رجسٹریشن کا انکشاف

آفتاب مہمند

|

15 Oct 2026

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 33 بچوں سمیت 35 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں عمارت کی خستہ حالی، چھت کو عارضی سہارا دینے اور اسکول کی رجسٹریشن کے عمل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق عمارت کی حالت خراب ہونے کے باوجود اسکول کو رجسٹرڈ کیا گیا تھا، تاہم متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے وقت ادارے نے مقررہ تعلیمی اور کلاس رومز کے معیار پر پورا اترنے کی بنیاد پر اجازت دی تھی۔

چھت 20 سے 25 فٹ بلندی سے گری

ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق حادثہ اسکول کی نچلی عمارت کے ایک سائیڈ والے کلاس روم میں پیش آیا، جہاں تیسری منزل کی چھت تقریباً 20 سے 25 فٹ بلندی سے نیچے گری۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمارت کے تمام کمروں میں چھتیں پہلے سے تیار حالت میں نصب تھیں، جبکہ بالائی منزل کی چھت بارشوں کے باعث خستہ ہوچکی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اسکول کے مالک خان محمد کو بچوں نے چھت کی حالت سے آگاہ بھی کیا تھا۔ اس کے باوجود چھت کو عارضی سہارا دے کر بچوں کو اسکول بلایا گیا۔ حادثے کے بعد متاثرہ کمروں کے ساتھ عمارت کے دیگر حصوں کو بھی غیر موزوں قرار دیا گیا۔

سانحے میں 2 ٹیچرز اور 33 بچے جاں بحق

اسپتال انتظامیہ کے مطابق 33 لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال جبکہ دو لاشیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کی گئیں۔ پولیس نے جاں بحق ہونے والوں کی فہرست مرتب کی ہے، جس میں 33 بچے اور دو خواتین اساتذہ شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال کی فہرست میں چار نام دو مرتبہ درج کیے گئے۔ تین بچوں کے نام ایک جیسے، تاہم والد کے نام مختلف ہیں، جبکہ دو بچوں کے نام اور ولدیت یکساں ہونے کے باوجود ان کی عمروں میں فرق ہے۔ حکام کے مطابق اموات کی حتمی تفصیلات کی تصدیق کے لیے فہرستوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

حادثے میں زخمیوں کی تعداد اب بھی 50 کے قریب ہے جبکہ کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔

خستہ حال عمارت کو رجسٹریشن کیسے ملی؟

سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ نجی اسکول کی عمارت کا باقاعدہ معائنہ نہیں ہوا تھا، جبکہ عمارت کی خراب حالت کے باوجود اسے رجسٹرڈ کیا گیا۔ خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال نے بتایا کہ اسکول مارچ 2026 میں رجسٹرڈ ہوا تھا۔

جاوید اقبال کے مطابق اتھارٹی کے پاس اپنی تکنیکی ٹیم موجود نہیں اور اسکول کو کلاس رومز سمیت دیگر مقررہ معیار پر پورا اترنے کی بنیاد پر رجسٹریشن دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خستہ حال عمارت پر جرمانہ کرنے کا اختیار تو موجود ہے، تاہم عمارت بند کرنے کا اختیار نہیں۔

اسکول مالک گرفتار، غفلت کی تحقیقات شروع

پولیس نے اسکول کے مالک خان محمد کو گرفتار کرلیا ہے۔ مالک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حادثے کے وقت وہ خود اسکول میں موجود تھا اور عمارت کا نقشہ منظور کروایا گیا تھا۔ اس نے واقعے کو حادثاتی قرار دیتے ہوئے عمارت میں ناقص تعمیراتی مواد استعمال ہونے کی تردید کی۔

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور اس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا امکان بھی زیر غور ہے۔ ان کے مطابق ایف آئی آر ریاست کی جانب سے درج ہوگی، جبکہ اسپیشل برانچ کو غفلت کے مرتکب اداروں کے بارے میں رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹیاں قائم

حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم نے الگ الگ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹیاں قائم کردی ہیں۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ محمد زبیر کو صوبائی حکومت کی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو چھت گرنے کی وجوہات، تعمیراتی معیار اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی کو سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری کمیٹی میں خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال چیئرمین جبکہ ڈپٹی سیکریٹری پرائمری ایجوکیشن محمد فاروق رکن ہوں گے۔ کمیٹی کو تفصیلی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

وزیراعظم کا واقعے پر اظہار افسوس

وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے پر زور دیا۔

گورنر خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو بتایا کہ اسکول مالک گرفتار ہوچکا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کے آڈٹ میں ماضی کی غفلت کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور کسی بھی سطح پر کوتاہی ثابت ہونے پر کارروائی کی جائے گی۔

ثمر ہارون بلور کا عمارت کا دورہ

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے حادثے کا شکار اسکول کی عمارت کا دورہ کیا اور واقعے کو انتہائی افسوسناک سانحہ قرار دیا۔ ان کے مطابق عمارت کی حالت سے بظاہر انتظامی غفلت کا پہلو سامنے آتا ہے، اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عمارت کا باقاعدہ معائنہ اور نگرانی کیوں نہیں کی گئی۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

دیر کالونی میں اسکول گرنے کے واقعے سے متعلق بلڈنگ انجینئر کے اہم انکشافات!

بلڈنگ انجینئر کے دعوے کے مطابق  اسکول کے مالک کو نوٹس دیا تھا، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آصف خان اور رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی نے انہیں دھمکیاں دیں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی مبینہ طور پر اذیت پہنچائی۔

امداد کا اعلان

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں حادثے کا نشانہ بننے والے اسکول کا دورہ کیا اور سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 2 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا ہے۔

گورنر نے کہا کہ اسکول حادثے کی تحقیقات چار روز میں مکمل کی جائیں گی اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں سزا دی جائے گی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی محکمے سے ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسکول مالک سے لے کر متعلقہ سرکاری اداروں تک سب کی ذمہ داری کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی غفلت کے باعث اسکولوں کا آڈٹ نہیں ہوسکا، تاہم اب معاملہ محض انکوائری کمیٹی بنانے تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

انہوں نے سابقہ طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صرف فوٹو سیشن اور انکوائری کمیٹیوں کی خبریں سامنے آتی تھیں، لیکن اس بار غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

 

Comments

https://www.dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!